دوستو! آج کل خوراک کی حفاظت کا معاملہ کتنا اہم ہو گیا ہے، یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔ خاص طور پر اگر آپ خوراک کے شعبے میں اپنا کیریئر بنانا چاہتے ہیں یا کسی کاروبار سے منسلک ہیں، تو یہ سوال اکثر پریشان کرتا ہے کہ کون سی سرٹیفیکیشن آپ کو عالمی سطح پر پہچان دلائے گی؟ میں نے خود کئی لوگوں سے بات کی ہے جو اس فیلڈ میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں، اور ان کا سب سے بڑا مسئلہ صحیح معلومات کا نہ ہونا تھا۔ انٹرنیشنل فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز دراصل وہ سیڑھی ہیں جو آپ کو دنیا بھر کی منڈیوں میں اعتماد کے ساتھ قدم رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ جیسے جیسے عالمی تجارت بڑھ رہی ہے اور صارفین کی آگاہی میں اضافہ ہو رہا ہے، ان سرٹیفیکیشنز کی اہمیت اور مانگ دونوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ آئیے، آج ہم ان بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز کے بارے میں تفصیل سے جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ آپ کے مستقبل کے لیے کیسے بہترین ثابت ہو سکتی ہے۔
کیرئیر میں ترقی کی ضمانت: یہ سرٹیفیکیشنز کیوں ضروری ہیں؟

دوستو، جب میں نے پہلی بار فوڈ انڈسٹری میں قدم رکھا تھا تو مجھے یاد ہے کہ کتنے لوگ اس بات سے پریشان تھے کہ اپنی قابلیت کو کیسے ثابت کیا جائے۔ بازار میں ایسے ادارے بھی بہت تھے جو صرف پیسے لے کر ایک کاغذ تھما دیتے تھے جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن جیسے جیسے وقت بدلا، دنیا چھوٹی ہوتی گئی اور گلوبلائزیشن نے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، فوڈ سیکٹر میں بھی عالمی معیار کی ضرورت بڑھتی چلی گئی۔ آج کے دور میں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا کام صرف ایک علاقے تک محدود نہ رہے بلکہ دنیا بھر میں پہچانا جائے، تو بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز ایک لازمی جزو بن چکی ہیں۔ یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں بلکہ یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آپ عالمی سطح پر مقرر کردہ صحت و صفائی کے اصولوں پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میرے ایک دوست نے بہت محنت سے اپنا فوڈ بزنس شروع کیا تھا، لیکن عالمی منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے اسے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اس کے پاس مطلوبہ بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز نہیں تھے۔ اس نے پھر کئی ماہ لگا کر یہ سرٹیفیکیشنز حاصل کیں اور اس کے بعد اس کے کاروبار کو ایسی پرواز ملی کہ اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ یہ سرٹیفیکیشنز آپ کے صارفین کا اعتماد بڑھاتی ہیں اور آپ کو قانونی مشکلات سے بھی بچاتی ہیں۔
صارفین کا اعتماد کیسے جیتیں؟
کسی بھی کاروبار کی بنیاد صارفین کا اعتماد ہوتا ہے، اور خوراک کے شعبے میں یہ اعتماد سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے۔ جب آپ کے پاس بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشن ہوتی ہے، تو آپ دراصل اپنے صارفین کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ آپ ان کی صحت کے بارے میں کتنے فکرمند ہیں۔ تصور کریں، ایک ایسی پروڈکٹ جو کسی سرٹیفائیڈ کمپنی سے آ رہی ہو اور ایک ایسی جو بغیر کسی سرٹیفیکیشن کے ہو، آپ کس پر زیادہ بھروسہ کریں گے؟ جواب صاف ہے۔ یہ سرٹیفیکیشنز اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ آپ نے پیداوار سے لے کر پیکجنگ تک ہر مرحلے پر صفائی اور معیار کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ایک چھوٹے درجے کا کاروبار صرف ان سرٹیفیکیشنز کی بدولت بڑے برانڈز کے ساتھ مقابلہ کرنے کے قابل ہو گیا، کیونکہ صارفین جانتے تھے کہ ان کی پروڈکٹ پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ سرٹیفیکیشنز صرف معیار کو یقینی نہیں بناتی بلکہ آپ کے برانڈ کو ایک مضبوط اور قابل اعتماد شناخت بھی دیتی ہیں۔ یہ ایک ایسا سرمایہ ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ آپ کے کاروبار کی قدر و قیمت میں بے پناہ اضافہ کرتا ہے۔ اس سے آپ کی ساکھ بہتر ہوتی ہے اور نئے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔
قانونی پیچیدگیوں سے بچاؤ اور آسان تجارت
آج کل، خوراک کے شعبے میں قوانین اور ضوابط اتنے سخت ہو چکے ہیں کہ اگر آپ ان سے واقف نہ ہوں تو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہر ملک کے اپنے درآمدی اور برآمدی قوانین ہیں، اور ان میں سے زیادہ تر میں بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ کے پاس یہ سرٹیفیکیشنز نہیں ہیں تو آپ کو عالمی منڈیوں میں اپنا قدم جمانا بہت مشکل ہو جائے گا، اور بعض اوقات تو ناممکن بھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میرے ایک جاننے والے کو اپنی پروڈکٹ ایک دوسرے ملک میں بھیجنی تھی، لیکن وہاں کے سخت قوانین کی وجہ سے اسے کئی ہفتے انتظار کرنا پڑا صرف اس لیے کہ اس کے پاس ایک مخصوص سرٹیفیکیشن نہیں تھی۔ آخر کار اسے بھاری جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا اور ڈیل بھی ہاتھوں سے نکل گئی۔ یہ سرٹیفیکیشنز آپ کو نہ صرف قانونی پیچیدگیوں سے بچاتی ہیں بلکہ آپ کے لیے عالمی تجارت کے دروازے بھی کھول دیتی ہیں۔ جب آپ کے پاس مطلوبہ سرٹیفیکیشنز ہوتی ہیں تو آپ کا مال آسانی سے بارڈرز پار کر جاتا ہے اور آپ کو غیر ضروری تاخیر اور جرمانے سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ ایک ایسی انویسٹمنٹ ہے جو لمبے عرصے میں آپ کا وقت اور پیسہ دونوں بچاتی ہے۔
آپ کے لیے کون سی سرٹیفیکیشن بہترین ہے؟
فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز کی دنیا بڑی وسیع ہے اور ہر سرٹیفیکیشن کی اپنی خصوصیات اور اہمیت ہے۔ مجھے اکثر لوگوں سے یہ سوال سننے کو ملتا ہے کہ “میرے لیے کون سی سرٹیفیکیشن سب سے زیادہ مفید رہے گی؟” اس کا جواب دراصل آپ کے کاروبار کی نوعیت، آپ کی مصنوعات اور آپ کی ٹارگٹ مارکیٹ پر منحصر کرتا ہے۔ ہر سرٹیفیکیشن کے اپنے معیار ہوتے ہیں اور وہ فوڈ سیفٹی کے مختلف پہلوؤں پر زور دیتے ہیں۔ میرے تجربے میں، سب سے پہلے آپ کو اپنی ضروریات کا جائزہ لینا چاہیے اور یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کس قسم کی مصنوعات تیار کر رہے ہیں اور آپ کا کاروبار کن ممالک میں پھیلانا چاہتے ہیں۔ کچھ سرٹیفیکیشنز عمومی فوڈ سیفٹی کے لیے بہترین ہیں جبکہ کچھ خاص شعبوں جیسے گوشت، ڈیری یا بیکری مصنوعات کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ صحیح سرٹیفیکیشن کا انتخاب آپ کے کاروبار کو نہ صرف قانونی طور پر محفوظ بناتا ہے بلکہ مارکیٹ میں آپ کی مسابقتی پوزیشن کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ آئیے ذیل میں کچھ اہم عالمی سرٹیفیکیشنز کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ آپ کو بہتر فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
HACCP: خطرات کا تجزیہ اور کنٹرول
HACCP یعنی ہیزرڈ اینالسز اینڈ کریٹیکل کنٹرول پوائنٹس، فوڈ سیفٹی کی دنیا میں ایک بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو پیداواری عمل کے دوران ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور انہیں کنٹرول کرنے کے اقدامات تجویز کرتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کو اس کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روک دیتا ہے۔ میں نے کئی اداروں کو دیکھا ہے جنہوں نے HACCP کو اپنا کر نہ صرف اپنی مصنوعات کا معیار بہتر کیا بلکہ صارفین کا اعتماد بھی حاصل کیا۔ یہ خاص طور پر ان کمپنیوں کے لیے ضروری ہے جو گوشت، مچھلی، ڈیری اور کم ایسڈ والی ڈبہ بند غذاؤں سے متعلق کام کرتی ہیں۔ HACCP سرٹیفیکیشن عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور کئی ممالک میں اس کا حصول قانونی ضرورت ہے۔ اگر آپ فوڈ سیفٹی کی دنیا میں قدم جما رہے ہیں تو HACCP سے بہتر آغاز کوئی نہیں۔
ISO 22000: مربوط نظام کی اہمیت
ISO 22000 فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کے لیے ایک بین الاقوامی معیار ہے۔ یہ HACCP کے اصولوں کو ISO کے انتظامی نظام کے ساتھ مربوط کرتا ہے، جس سے ایک جامع اور مؤثر فوڈ سیفٹی نظام تشکیل پاتا ہے۔ میری نظر میں، یہ سرٹیفیکیشن ان اداروں کے لیے بہترین ہے جو اپنے فوڈ سیفٹی نظام کو مزید منظم اور معیاری بنانا چاہتے ہیں۔ یہ نہ صرف غذائی تحفظ کے پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے بلکہ انتظامیہ، کمیونیکیشن اور مسلسل بہتری پر بھی زور دیتا ہے۔ اس سرٹیفیکیشن کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ عالمی سطح پر قبول کیا جاتا ہے اور یہ آپ کے کاروبار کو عالمی منڈیوں میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ میرے ایک دوست کی کمپنی نے جب ISO 22000 حاصل کیا تو اسے عالمی سطح پر نئے پارٹنرز ملنے میں بہت آسانی ہوئی، جو پہلے ممکن نہ تھا۔
BRCGS اور FSSC 22000: عالمی مارکیٹ میں جگہ
جب بات عالمی مارکیٹ میں جگہ بنانے کی ہو تو BRCGS (برٹش ریٹیل کنسورشیم گلوبل اسٹینڈرڈز) اور FSSC 22000 (فوڈ سیفٹی سسٹم سرٹیفیکیشن) بہت اہم ہیں۔ BRCGS خاص طور پر برطانیہ اور یورپ کی مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگا جاتا ہے اور یہ مصنوعات کی حفاظت، معیار اور آپریشنل معیارات پر گہری نظر رکھتا ہے۔ اگر آپ کی مصنوعات یورپ میں ایکسپورٹ ہو رہی ہیں تو BRCGS کا حصول آپ کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ دوسری طرف، FSSC 22000 ایک ایسا جدید فوڈ سیفٹی سرٹیفیکیشن ہے جو ISO 22000 پر مبنی ہے اور اسے گلوبل فوڈ سیفٹی انیشی ایٹو (GFSI) نے تسلیم کیا ہے۔ یہ سرٹیفیکیشن ان کمپنیوں کے لیے بہترین ہے جو ایک جامع اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ فوڈ سیفٹی نظام چاہتی ہیں اور بڑے ریٹیلرز اور فوڈ سروس فراہم کرنے والوں کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں۔ ان سرٹیفیکیشنز کے ساتھ، آپ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر سکتے ہیں۔
| سرٹیفیکیشن کا نام | توجہ کا مرکز | اہمیت / عالمی شناخت |
|---|---|---|
| HACCP | غذائی خطرات کا تجزیہ اور کنٹرول پوائنٹس | بنیادی غذائی تحفظ کا نظام، وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ |
| ISO 22000 | جامع فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم | گلوبل معیار، انتظامی نظام سے مربوط |
| BRCGS | مصنوعات کی حفاظت، معیار اور آپریشنل کنٹرول | برطانیہ اور یورپ میں مضبوط شناخت، ریٹیلرز کے لیے اہم |
| FSSC 22000 | ISO 22000 پر مبنی فوڈ سیفٹی سسٹم | GFSI تسلیم شدہ، عالمی سطح پر بڑھتا ہوا قبولیت |
سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کا طریقہ کار: میرا تجربہ
سرٹیفیکیشن حاصل کرنا کوئی ایک دن کا کام نہیں، بلکہ یہ ایک منظم اور مرحلہ وار عمل ہے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایک کمپنی کو اس عمل میں رہنمائی دی تھی، تو ابتدا میں سب کو لگا تھا کہ یہ بہت مشکل کام ہے، لیکن جب ہم نے اسے چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کیا تو سب کچھ آسان ہو گیا۔ سب سے پہلے، آپ کو اپنی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینا ہوتا ہے اور یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کی کمپنی کہاں کھڑی ہے اور عالمی معیارات کے مطابق کہاں تک جانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک قسم کی خود احتسابی ہے جو آپ کے نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کے بعد آپ کو ایک لائحہ عمل تیار کرنا پڑتا ہے جس میں تمام ضروری تبدیلیاں اور بہتری کے اقدامات شامل ہوں۔ میرے تجربے میں، یہ وہ مرحلہ ہے جہاں زیادہ تر لوگ ہمت ہار جاتے ہیں، لیکن اگر آپ مستقل مزاجی سے کام لیں تو یہ کوئی بڑی رکاوٹ نہیں۔
پہلا قدم: درست ادارے کا انتخاب
سرٹیفیکیشن کے لیے سب سے اہم پہلا قدم ایک مستند اور قابل اعتماد سرٹیفیکیشن باڈی کا انتخاب ہے۔ یہ ادارہ آپ کی سرٹیفیکیشن کے معیار اور اس کی عالمی شناخت کے لیے بہت ضروری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میرے ایک جاننے والے نے کم قیمت کی وجہ سے ایک غیر معیاری ادارے کا انتخاب کر لیا تھا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس کی سرٹیفیکیشن کو عالمی سطح پر قبول نہیں کیا گیا اور اسے دوبارہ سارا عمل دہرانا پڑا۔ لہٰذا، جلد بازی نہ کریں، اچھے سے تحقیق کریں اور ایسے ادارے کا انتخاب کریں جو تسلیم شدہ ہو اور جس کا فوڈ سیفٹی کی دنیا میں اچھا نام ہو۔ آپ ان کے سابقہ کلائنٹس سے بھی بات کر سکتے ہیں تاکہ ان کے کام کے معیار کا اندازہ ہو سکے۔ ایک اچھے ادارے کا انتخاب آپ کے پورے عمل کو آسان اور قابل بھروسہ بنا دیتا ہے۔
تیاری اور آڈٹ: اندرونی جانچ کی اہمیت
ایک بار جب آپ سرٹیفیکیشن باڈی کا انتخاب کر لیتے ہیں، تو اگلا مرحلہ بھرپور تیاری کا ہوتا ہے۔ اس میں آپ کے تمام نظام کو سرٹیفیکیشن کے معیارات کے مطابق ڈھالنا شامل ہے۔ آپ کو تمام ضروری دستاویزات، پالیسیاں اور طریقہ کار تیار کرنے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اندرونی آڈٹ کا مرحلہ آتا ہے، جو میرے خیال میں سب سے اہم ہے۔ اس میں آپ خود اپنے سسٹم کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ سرٹیفیکیشن باڈی کے آڈٹ سے پہلے تمام خامیوں کو دور کیا جا سکے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ہم نے اندرونی آڈٹ کے دوران ایک بڑی خامی پکڑی تھی جو اگر بیرونی آڈٹ میں سامنے آتی تو بڑی مشکل ہو جاتی۔ یہ اندرونی جانچ آپ کو بیرونی آڈٹ کے لیے تیار کرتی ہے اور آپ کے اعتماد میں اضافہ کرتی ہے۔ جب آپ پوری تیاری کے ساتھ آڈٹ کا سامنا کرتے ہیں تو کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔
صرف کاغذ نہیں: عملی زندگی میں فوائد
اکثر لوگ سرٹیفیکیشن کو صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا سمجھتے ہیں جو دیوار پر ٹانگ دیا جاتا ہے، لیکن میرا ماننا ہے کہ یہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ عملی زندگی میں آپ کے کاروبار اور ملازمین کی کارکردگی پر گہرے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ایک سرٹیفائیڈ کمپنی میں کام کرنے کا طریقہ کار غیر سرٹیفائیڈ کمپنی سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں ہر چیز زیادہ منظم، محفوظ اور معیاری ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک چیک لسٹ کو پورا کرنا نہیں، بلکہ یہ آپ کے پورے کاروباری فلسفے کو بدل دیتا ہے۔ جب آپ ایک بین الاقوامی معیار کے مطابق کام کرتے ہیں تو آپ کے ملازمین بھی بہتر محسوس کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی بھی بڑھتی ہے۔ یہ ایک ایسا سرمایہ ہے جو آپ کو ہر سطح پر فائدہ پہنچاتا ہے۔
ملازمین کی تربیت اور کارکردگی میں بہتری
جب کوئی کمپنی بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشن کے حصول کا فیصلہ کرتی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اسے اپنے ملازمین کو بھی ان معیارات کے مطابق تربیت دینی ہوگی۔ یہ تربیت صرف چند گھنٹوں کی نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہوتا ہے جو ملازمین کو فوڈ سیفٹی کے جدید ترین طریقوں سے آگاہ رکھتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں نے ایک فیکٹری کا دورہ کیا تھا جہاں پہلے صفائی کا معیار اوسط درجے کا تھا، لیکن سرٹیفیکیشن کے بعد وہاں کے ملازمین کی تربیت اور آگاہی کی وجہ سے صفائی کی صورتحال مکمل طور پر بدل چکی تھی۔ یہ تربیت ملازمین کی مہارتوں میں اضافہ کرتی ہے، انہیں اپنے کام پر زیادہ اعتماد دیتی ہے اور ان کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔ بہتر تربیت یافتہ ملازمین کم غلطیاں کرتے ہیں اور زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔
پیداواری لاگت میں کمی اور فضلے کا انتظام
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز آپ کی پیداواری لاگت کو کم کرنے میں بھی مدد کرتی ہیں۔ جب آپ ایک منظم فوڈ سیفٹی نظام کو اپناتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پیداواری عمل کے دوران ہونے والے فضلے، دوبارہ کام (rework) اور مصنوعات کی خرابی (spoilage) کو کم کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں براہ راست آپ کی لاگت کو متاثر کرتی ہیں۔ میں نے کئی کمپنیوں کو دیکھا ہے جنہوں نے سرٹیفیکیشن کے بعد اپنے فضلے میں نمایاں کمی دیکھی اور اس کے نتیجے میں ان کی منافع خوری میں اضافہ ہوا۔ یہ سرٹیفیکیشنز آپ کو وسائل کے بہتر انتظام اور فضلے کو کم کرنے کے طریقے سکھاتی ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کا پیسہ بچتا ہے بلکہ ماحول پر بھی مثبت اثر پڑتا ہے، جو آج کے دور میں ایک بہت اہم پہلو ہے۔
مالی فوائد اور ملازمت کا تحفظ: ایک روشن مستقبل

ہم سب جانتے ہیں کہ آخر کار ہر کوئی ایک روشن مستقبل اور مالی استحکام چاہتا ہے۔ فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز صرف صحت و صفائی کے بارے میں نہیں، بلکہ یہ آپ کے مالی مستقبل کو بھی روشن کرتی ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ کیسے ایک اچھی سرٹیفیکیشن نے کئی کاروباروں کی قسمت بدل دی اور لوگوں کو بہتر ملازمت کے مواقع فراہم کیے۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جس کا طویل مدتی فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ خاص طور پر آج کے مسابقتی دور میں، جب ہر کوئی آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے، یہ سرٹیفیکیشنز آپ کو ایک نمایاں فائدہ دیتی ہیں۔ یہ آپ کو صرف موجودہ نوکری میں نہیں بلکہ پورے کیرئیر میں مدد دیتی ہے۔
کاروبار کی قدر میں اضافہ اور سرمایہ کاری
جب آپ کی کمپنی کے پاس معتبر بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز ہوتی ہیں، تو اس کی مارکیٹ ویلیو خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ سرمایہ کار اور پارٹنرز ایسی کمپنیوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں جو عالمی معیارات پر پوری اترتی ہیں۔ میرے ایک کاروباری دوست نے بتایا کہ اسے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے میں بہت آسانی ہوئی کیونکہ اس کے پاس تمام ضروری بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز موجود تھیں۔ یہ سرٹیفیکیشنز ایک ثبوت ہیں کہ آپ کا کاروبار نہ صرف قانونی طور پر مستحکم ہے بلکہ اس میں معیار اور حفاظت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ آپ کے کاروبار کو نئے صارفین اور بڑے گاہکوں تک رسائی فراہم کرتا ہے، جس سے آپ کے منافع میں کئی گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ذاتی کیرئیر میں ترقی اور بہتر تنخواہ
صرف کاروبار ہی نہیں، یہ سرٹیفیکیشنز افراد کے کیرئیر کے لیے بھی بہت فائدہ مند ہیں۔ اگر آپ فوڈ سیکٹر میں کام کر رہے ہیں تو ان سرٹیفیکیشنز کا حصول آپ کی قابلیت میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ میں نے کئی نوجوانوں کو دیکھا ہے جنہوں نے یہ سرٹیفیکیشنز حاصل کر کے اپنی موجودہ نوکری میں ترقی حاصل کی اور بہتر تنخواہ پر نئی نوکریاں حاصل کیں۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن آپ کو انٹرویوز میں ایک برتری دیتی ہے اور آپ کے نالج اور مہارت کو ثابت کرتی ہے۔ یہ آپ کو صرف ایک مقامی فوڈ ہائیجین آفیسر نہیں بلکہ ایک عالمی معیار کا ماہر بناتی ہے۔ اس سے آپ کے کیرئیر کے دروازے دنیا بھر میں کھل جاتے ہیں اور آپ کو مزید مواقع ملتے ہیں۔
عام غلطیوں سے کیسے بچیں: میری ذاتی رائے
سرٹیفیکیشن کا عمل جتنا فائدہ مند ہے، اتنا ہی اس میں غلطیاں کرنے کے امکانات بھی ہوتے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں، ان غلطیوں سے بچنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ کا وقت، پیسہ اور محنت ضائع نہ ہو۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار ایک کمپنی نے جلد بازی میں کچھ ایسے فیصلے کیے تھے جس کی وجہ سے انہیں سرٹیفیکیشن حاصل کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں، بس کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جن پر عام طور پر لوگ توجہ نہیں دیتے۔ اگر آپ ان عام غلطیوں سے بچ جائیں تو آپ کا سفر بہت آسان اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کن چیزوں سے بچنا ضروری ہے۔
غلط ادارے کا انتخاب اور اس کے نتائج
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا، سرٹیفیکیشن باڈی کا انتخاب بہت اہم ہے۔ ایک عام غلطی جو لوگ کرتے ہیں وہ صرف کم قیمت یا آسانی کی وجہ سے کسی ایسے ادارے کا انتخاب کر لیتے ہیں جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ نہ ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب آپ کی سرٹیفیکیشن عالمی منڈیوں میں پیش کی جاتی ہے تو اسے قبول نہیں کیا جاتا، اور آپ کی ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔ میرے ایک تجربے میں، ایک چھوٹے پیمانے کے کاروبار نے یہ غلطی کی اور پھر اسے دوبارہ شروع سے ساری جانچ پڑتال اور آڈٹ کے مرحلے سے گزرنا پڑا، جس میں بہت زیادہ اضافی لاگت آئی۔ ہمیشہ تسلیم شدہ اور معروف سرٹیفیکیشن باڈیز کا انتخاب کریں، چاہے اس میں تھوڑا زیادہ وقت یا پیسہ لگے۔
سرٹیفیکیشن کے بعد غفلت سے بچاؤ
ایک اور بڑی غلطی جو اکثر لوگ کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے بعد وہ مطمئن ہو جاتے ہیں اور اپنے نظام میں بہتری لانا چھوڑ دیتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ بس اب سب ٹھیک ہے۔ لیکن فوڈ سیفٹی ایک مسلسل عمل ہے اور سرٹیفیکیشن کے بعد بھی آپ کو اپنے معیارات کو برقرار رکھنا ہوتا ہے اور انہیں مزید بہتر بنانا ہوتا ہے۔ کئی سرٹیفیکیشنز کی میعاد ہوتی ہے اور باقاعدگی سے نگرانی اور تجدید کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آپ اس کے بعد غفلت برتتے ہیں تو نہ صرف آپ کی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے بلکہ آپ کی سرٹیفیکیشن بھی منسوخ ہو سکتی ہے۔ میں ہمیشہ اپنے کلائنٹس کو یاد دلاتا ہوں کہ سرٹیفیکیشن صرف ایک آغاز ہے، اصل کام تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے جب آپ کو ان معیارات کو مسلسل برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
خوراک کی حفاظت کا مستقبل: آگے کیا ہے؟
خوراک کی حفاظت کا شعبہ ہمیشہ ارتقاء پذیر رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس میں نئی تبدیلیاں اور چیلنجز آئیں گے۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، فوڈ سیفٹی کے طریقے بھی جدید ہوتے جا رہے ہیں۔ آج ہم جس بین الاقوامی سرٹیفیکیشن کی بات کر رہے ہیں، ممکن ہے کل اس میں مزید جدت آ جائے۔ میری رائے میں، ہمیں اس تبدیلی کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے اور خود کو نئے معیارات کے مطابق ڈھالتے رہنا چاہیے۔ یہ صرف عالمی تجارت کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ ہمارے اپنے لوگوں کی صحت اور فلاح و بہبود کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں فوڈ سیفٹی میں بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز کا استعمال بڑھتا جائے گا، جو مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی کو مزید شفاف بنائیں گی۔
نئی ٹیکنالوجیز اور فوڈ سیفٹی
آج کل، فوڈ سیفٹی میں ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ سمارٹ سینسرز، مصنوعی ذہانت (AI) اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز فوڈ سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور شفاف بنا رہی ہیں۔ مثال کے طور پر، بلاک چین ٹیکنالوجی کی مدد سے کسی بھی فوڈ پروڈکٹ کی پوری تاریخ کو ٹریک کرنا ممکن ہو گیا ہے، جس سے اس کی پیدائش سے لے کر صارف تک پہنچنے کے تمام مراحل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ میں نے ایک سیمینار میں حصہ لیا تھا جہاں بتایا گیا تھا کہ کیسے ایک چھوٹی سی کمپنی نے بلاک چین کی مدد سے اپنی مصنوعات کی ٹریس ایبلٹی کو اتنا مؤثر بنا لیا کہ عالمی خریداروں نے ان پر آنکھیں بند کر کے بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ ٹیکنالوجیز فوڈ سیفٹی کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور انہیں فوری طور پر شناخت کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
عالمی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت
خوراک کی حفاظت صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک اور عالمی ادارے آپس میں تعاون کریں تاکہ فوڈ سیفٹی کے معیارات کو مزید ہم آہنگ کیا جا سکے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک عالمی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ جب تک تمام ممالک ایک جیسے معیارات پر متفق نہیں ہوتے، خوراک کی عالمی تجارت میں مشکلات آتی رہیں گی۔ مستقبل میں، ہمیں مزید مضبوط عالمی معاہدوں اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی تاکہ دنیا بھر میں خوراک کو ہر کسی کے لیے محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ نہ صرف انسانی صحت کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی امن اور استحکام کے لیے بھی ضروری ہے۔
آخر میں چند باتیں
میرے عزیز دوستو، جیسا کہ ہم نے دیکھا، بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں ہیں بلکہ یہ آپ کے کاروبار اور کیرئیر کے لیے ایک مکمل گیم چینجر ہیں۔ یہ آپ کے صارفین کا اعتماد بڑھاتی ہیں، قانونی مشکلات سے بچاتی ہیں اور عالمی مارکیٹ میں آپ کے لیے نئے دروازے کھولتی ہیں۔ یہ ایک ایسی سرمایہ کاری ہے جو طویل مدت میں بے پناہ فوائد دیتی ہے، چاہے وہ بہتر ساکھ ہو، زیادہ منافع ہو یا کیرئیر میں ترقی۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جو ادارے ان معیارات کو اپنا لیتے ہیں، وہ نہ صرف زیادہ کامیاب ہوتے ہیں بلکہ ایک محفوظ اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں بھی اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ تو، آگے بڑھیں اور ان سرٹیفیکیشنز کو حاصل کر کے اپنے اور اپنے کاروبار کے لیے ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں۔
چند مفید باتیں جو آپ کے کام آئیں گی
1. کسی بھی سرٹیفیکیشن کے حصول سے پہلے اپنی ضروریات اور اہداف کا اچھی طرح جائزہ لیں تاکہ آپ صحیح سرٹیفیکیشن کا انتخاب کر سکیں۔
2. ہمیشہ ایک مستند اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن باڈی کا انتخاب کریں، تاکہ آپ کی محنت رائیگاں نہ جائے۔
3. سرٹیفیکیشن کے حصول کے بعد اپنے نظام کو مسلسل بہتر بناتے رہیں اور باقاعدگی سے آڈٹ کراتے رہیں تاکہ معیار برقرار رہے۔
4. اپنے ملازمین کی تربیت پر خصوصی توجہ دیں، کیونکہ ان کی مہارت اور آگاہی ہی آپ کے فوڈ سیفٹی سسٹم کی بنیاد ہے۔
5. جدید ٹیکنالوجیز جیسے بلاک چین اور AI کو فوڈ سیفٹی کے عمل میں شامل کرنے پر غور کریں تاکہ شفافیت اور ٹریس ایبلٹی کو بڑھایا جا سکے۔
اہم نکات کا خلاصہ
آج کے مسابقتی دور میں بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز کا حصول انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ نہ صرف صارفین کے اعتماد، قانونی تعمیل اور عالمی تجارت کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ آپ کی کمپنی کی قدر و قیمت، ملازمین کی کارکردگی اور آپ کے ذاتی کیرئیر کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں۔ HACCP، ISO 22000، BRCGS اور FSSC 22000 جیسی سرٹیفیکیشنز آپ کے کاروبار کو عالمی سطح پر ایک مضبوط شناخت فراہم کرتی ہیں۔ یاد رکھیں، سرٹیفیکیشن ایک جاری عمل ہے جس میں مستقل مزاجی اور عزم کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ آپ ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: مجھے بین الاقوامی فوڈ ہائیجین کے لیے کون سی سرٹیفیکیشنز سب سے پہلے حاصل کرنی چاہیے تاکہ عالمی سطح پر میرا کاروبار یا کیریئر نمایاں ہو سکے؟
ج: جب بین الاقوامی سطح پر خوراک کی حفاظت کی بات آتی ہے، تو کچھ سرٹیفیکیشنز ایسی ہیں جنہیں ایک معیار سمجھا جاتا ہے، اور میں نے خود دیکھا ہے کہ یہ سرٹیفیکیشنز آپ کے کاروبار یا کیریئر کے لیے دروازے کھول دیتی ہیں۔ سب سے پہلے HACCP (Hazard Analysis and Critical Control Points) کو ترجیح دینی چاہیے، یہ فوڈ سیفٹی کا بنیادی پتھر ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو پیداوار سے لے کر صارفین تک خوراک کے پورے سلسلے میں ممکنہ خطرات کی نشاندہی کرتا ہے اور انہیں کنٹرول کرتا ہے۔ میرے ایک دوست نے بتایا کہ HACCP کے بغیر تو وہ ایکسپورٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ اس کے بعد ISO 22000 بھی بہت اہم ہے، جو فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم کے لیے ایک عالمی معیار ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے اندرونی عمل کو بہتر بناتا ہے بلکہ گاہکوں اور ریگولیٹری اداروں کو بھی یہ یقین دلاتا ہے کہ آپ کے پاس ایک مضبوط نظام موجود ہے۔ اگر آپ خاص طور پر بڑی ریٹیل چینز کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں یا مغربی منڈیوں میں داخل ہونا چاہتے ہیں، تو BRCGS (Brand Reputation through Global Standards) اور FSSC 22000 (Food Safety System Certification) بھی انتہائی فائدہ مند ہیں۔ یہ دونوں زیادہ جامع اور سخت معیار ہیں جو سپلائی چین کے ہر مرحلے پر زور دیتے ہیں۔ اور ہاں، ہمارے خطے کے لیے حلال سرٹیفیکیشن کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہ صرف مذہبی پہلو سے اہم ہے بلکہ ایک بڑی مسلم آبادی کے لیے کاروبار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ ان سرٹیفیکیشنز کا حصول ایک سرمایہ کاری ہے، اور میرا تجربہ یہ ہے کہ یہ جلد ہی اپنا پھل دیتی ہے۔
س: بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز حاصل کرنے کے میرے کاروبار یا ملازمت کے مواقع پر کیا مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟
ج: جب آپ بین الاقوامی فوڈ ہائیجین سرٹیفیکیشنز حاصل کرتے ہیں، تو یہ صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتا، بلکہ یہ اعتماد کی مہر ہوتی ہے جو آپ کے کاروبار اور آپ کے کیریئر کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ایک چھوٹی سی کمپنی نے صرف ایک سرٹیفیکیشن حاصل کرنے کے بعد بین الاقوامی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا لی۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو عالمی مارکیٹ تک رسائی مل جاتی ہے۔ یورپی یونین، امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں آپ کی مصنوعات کو قبول کرنے کا امکان بڑھ جاتا ہے کیونکہ وہ ان سرٹیفیکیشنز کو ایک بنیادی شرط سمجھتے ہیں۔ دوسرا، صارفین کا اعتماد بڑھتا ہے، اور میرا ماننا ہے کہ آج کے دور میں صارف کا اعتماد ہی سب کچھ ہے۔ جب لوگوں کو پتہ ہوتا ہے کہ آپ کی مصنوعات عالمی معیار کے مطابق تیار کی گئی ہیں، تو وہ زیادہ بھروسے سے خریدتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ آپ کو قانونی تعمیل میں بھی مدد دیتا ہے؛ بہت سے ممالک میں ان سرٹیفیکیشنز کے بغیر خوراک کی مصنوعات کی درآمد یا فروخت ممنوع ہے۔ ذاتی طور پر، مجھے یاد ہے کہ جب میں نے ایک کمپنی میں انٹرویو دیا تھا جہاں مجھے فوڈ سیفٹی کا تجربہ اور سرٹیفیکیشنز حاصل تھیں، تو انٹرویو لینے والے نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ وہ مجھے دوسروں پر ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ آپ کی پیشہ ورانہ قدر میں اضافہ کرتا ہے اور آپ کو بہتر ملازمت کے مواقع اور ترقی کے امکانات فراہم کرتا ہے۔ مختصر یہ کہ، یہ آپ کے کاروبار کو منافع بخش بناتا ہے اور آپ کے کیریئر کو ایک نئی اونچائی پر لے جاتا ہے۔
س: ان سرٹیفیکیشنز کو حاصل کرنے کا عمل کتنا پیچیدہ ہے اور اس کے لیے مجھے کن بنیادی مراحل سے گزرنا ہوگا؟
ج: جی، یہ سوال بہت اہم ہے اور اکثر لوگ اس بارے میں پریشان رہتے ہیں کہ یہ عمل کتنا مشکل ہوگا۔ ایمانداری سے کہوں تو یہ ایک تفصیلی اور منظم عمل ہے، لیکن ناممکن بالکل نہیں۔ میں نے خود کئی ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جنہوں نے مناسب منصوبہ بندی اور محنت سے اسے مکمل کیا۔ پہلا مرحلہ ہے تحقیق اور تشخیص کا۔ آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آپ کے کاروبار یا کیریئر کے لیے کون سی سرٹیفیکیشن سب سے زیادہ موزوں ہے۔ اس کے بعد، آپ کو ایک فوڈ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم تیار کرنا ہوتا ہے، جو کہ ہر سرٹیفیکیشن کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس میں آپ کے تمام عمل، طریقہ کار، ریکارڈ کیپنگ اور ملازمین کی تربیت شامل ہوتی ہے۔ اس مرحلے میں اکثر کسی ماہر کنسلٹنٹ کی مدد لینا بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات کمپنیاں اندرونی طور پر یہ کام کرنے کی کوشش کرتی ہیں لیکن پھر وقت اور وسائل دونوں ضائع کر دیتی ہیں۔ تیسرا قدم تربیت کا ہے؛ آپ اور آپ کی ٹیم کو فوڈ سیفٹی کے اصولوں اور سرٹیفیکیشن کے تقاضوں کے بارے میں مکمل تربیت حاصل کرنی پڑتی ہے۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ آپ کے عملے کی آگاہی ہی آپ کے نظام کو مضبوط بناتی ہے۔ چوتھا اور سب سے اہم مرحلہ آڈٹ کا ہے، جہاں ایک آزاد سرٹیفیکیشن باڈی آپ کے نظام کا جائزہ لیتی ہے۔ اگر آپ کے نظام میں کوئی کمی ہو تو وہ آپ کو اسے درست کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ آخر میں، اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو آپ کو سرٹیفیکیشن جاری کر دی جاتی ہے۔ یہ کوئی ایک دفعہ کا عمل نہیں ہے؛ اس کے بعد بھی آپ کو باقاعدگی سے آڈٹس اور اپنے نظام کو بہتر بناتے رہنا پڑتا ہے۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے، لیکن اس کا فائدہ طویل مدتی ہوتا ہے۔






